
انتظاری کی حد سے گزر چکا ہوں میں
دروازے تمھارے پے دستک دیتا ہوں میں
ایک امید اور ارمانکے خواب میں کھویا ھوں میں
آنے والے کل کے لیے دعا مانگتا ہوں میں
ھر سویر اور شام خدا سے لڑتا ھوں میں
کوئی دن ایسا نا ہو جس میں ھم تمھارا نام نا لیں
جتنا بھی غم ھو میرے نصیب میں
دو پل ملےکھیں سے ایک ھسین چھرے کے سامنے
غم ایک بوند کی طرح سمندر میں کھو جائے اور ھم اپنا دل اسھی لمحے میں کھو بیٹھے