لکھنے کے لیے شائری کو



لکھنے کے لیے شائری کو تو سو مزمون حیں

مگر آج کا مزمون کچھ الگ سا حے 

آج کا مزمون میری اپنی خشی اور مسکوراھٹ حے

اس دل میں تھمحے اور چھپھے حووے پیار پے ھے 

سب چھانے والے کھتیں ھیں مجھسے وہ کتنی ازت کرتے حیں 

پیار کرنے والوں نے کھا ھم تم پے امنی جان چھرکھتیں حیں

مگر کسی نے کبھی ے نحیں مجھسے پحوچا 

تجھے حے کیا چھاھیے

میں لیتا راحا اور کبھی کچھ نا کحا 

وہ دیتے گیے بنا سوچے ھووے 

کبھی درد برداشت سے بھی پار 

اور کبھی کچی کے لمھے 

تھا جو بھی وہ بیت گۓ وخت وہ سارے

گزر گئ میری زنداگی اس حی انتازار میں

دیکھنے کے لئے 

کیا کوئ مجھے بھی پھوچےگا مجھسے کیا چھاھیے

حے تھا اور ھمےشا ایک ادھوری خواحش کی تراہ رھےگا کچھ ان ارمانوں میں 

بس گم سا تھا میں اس لمھے کے انتزار میں 

پتا حے کیا وہ اے پرنے والے

تھا وہ ے 

اب سوچو اور پھرو دیھان سے 

حے کوئ ایسا اس جھان میں 

جو مجھے اپنے باھوں میں لے کر کبھی چھورنا نا چھاحے

ساسیں میری سے اپنی ساسیں ملانا چھاحے

اپنی حوںٹوں کی لالی کو 

اور اپنے چھپھے حووے حسن کو

سرف میرے لیے سجانا چھاحے

حاتوں میں لے کر ھات میرا کانٹوں پے بھی چلنا چاحے 

میرے دکھ درد اور گم کو برداشت نا کر سکے

چھپاۓ وہ اپنے آںسوں کو میرے دیے حووے درد سے میرے سامنے

اپنی مسکوراھٹ کو دنیا سے چھپھاۓ صرف میرے سامنے آکے شرمانے کے لیے 

پاگل حو جاۓ وہ جب کوئ اور کھے 

مجھے عمران تجھسے پیار ھے

زندگی کھے وہ ادھوری ھے میرے بنا 

پیار تو کیا مرنا بھی حے اب تیرا 

مگر دوا مانگے وہ اپنے خیر اور لمبھی امر کے لیے 

کیوں کے وہ زندا رھنا چھاتی حے صرف مجھے اپنی نزروں کے سامنے رکھنے کے لیے

جاننا چھتا تھا میں کیا کوئ حے ایسا

بن کے اللھ تالا کی ترف سے بھجا حوا 

کھیں پے اس جھان میں کھویا حوا 

جسے اس جھان میں بس حمیشا مجھے حی ھے دھونڈنا 

اور دواعوں میں صرف مجھے حی حے مانگنا