اے ساتھیا—



اے ساتھیا

اے جانے جان

ایک بار تو سنتی جا

کتنا ادھورا ہے یہ

پاگل باؤلا تیرے بنا

ابتدا کر کے اب چھوڑ نا جانا

ہر لمحہ ہے ادھورا

یہ سوچتا ہوں میں کیوں ہوں میں اتنا بہکا ہوا

انتہا کی راہ پر انتہا ہو گیا

مجھ میں سما اپنے آپ کو سجا

صرف ایک دفعہ میری باہوں میں آ ایک سانس تو چھوڑ جا

آ جا میری جانے جا

میری خوشی کا عالم میری آ سمان

اے ساتھیا تو بن گیا ہے میرے جینے کی ایک تنہا وجہ

بس گئے ھو آنکھوں میں ایک امید کی طرح

اب کون ہے وہ جو ہمیں ہے پوچھتا

میرا جہاں ہے میرا آ سماں ہر لمحہ ہے ایک اور دعا

جب کہا یا اللہ واہ واہ

دل سے یہ وعدہ رہا بے بے دھڑک سا گیا

سینے میں جہاں کوئی نہیں دیکھسکتا

نہ سمجھ سکتا

ایک تھی میری جان

میں ھوں یھاں تم ھو کھاں

ھر بادل جو بناتا ھے آسامان

وھاں ھے اب تجھے پایا

تنھا چھور کے اب نا جا

اے ساتھیا

اے جانیجان

میری خشی کی آلم

میری آسامان