
زھنی بیماری
پاگلمن کے دورے
کوئ نھیں سمجھپاتا
کے ے کیا ھے مجھے
حزار احساس چپےھووے
اور سو سوال ھیں دبے حووے مجھ میں
مگر کھے میں کچھ بھی نھیں سکتا کیوں کے
کوئ سمجھ نے والا نھیں ھے انھے
جو بھی میں کھتا ھوں
میرے خلاف استیمال کیا جاتا ھے
دوائیاں نھیں چھاھییں مجھے
بس سنے اور سمھجنے کے لئے مجھ کو ایک انسان ایسا چاھیے
جو اپنے فاعیدے کے لیے نھیں
اپنے دل سے میرے دکھ درد اور سکھ کو پھچانے
اواز تو مجھے اٹھانے دے
چند پل کے لیے مجھے بھی جینے دے
در اتنا کے بیخوف بن گیا
درد کا سمندر اب میں بن گیا ھوں
پر پھر بھی مسکورانی کی کوشش کرتا ھوں
مسکوراعوں یا روں میں سیکروں اربوں آنسوں
کسی کو کیا ھے اب فرک پرتا
بھانا بن گئ ھے میری پرشانییاں
برے تالیمیافتا لوگوں کے لئے
کیا فائدہ ایسی کامیابی کا جب کوئ انسانییت ھی نھیں رھی ھے
جب حر دروازہ بند حو گیا تھا
اور پنجرے میں جیسے قید اپنے آپ کو مینے پایا
جب خدا کے سامنے بھی
دواعوں میں کچھ مانگ تھا نھیں پایا
زندگی نا موت کا کوئ ایک بھی مکسد ملا
بوج سا بن گیا ھوں
میں کھیں کا نھیں راھا
جب حر راستے پے صرف ملا اندھیرہ
پھر میں جاکے اپنی ازماعش کو سمجھا
سو زکم اور سوالوں کے ساتھ
میں تھا مسکورایا اور حس کے جیا
تیرا ھے شکر میرے پروردیگار
تو نے میرا ساتھ نھیں چھورا
خراب حو گیا ھوں میں
اس دنیا میں آکے
اپنے جھاں میں
جب میں واپس لوٹ کے آؤں گا آپ کے پاس
پلیز ے آعندہ سے حونے نھیں دینا
میرے دکھ اور درد کو کبھی
آئندا اپنا نھیں بننانا