
ایک آدھورے سائے کی تلاش میں روانا ہوگیا تھا کوئی
ایک ارمان کو لے کے چلبتا تھا کوئی
ھزار ھسیں اور دنیا شیخ چلی سےپکاردیں ا سے
مگر کسی نے نہ جانے کےسےادھورے سائے
نہ تھا جلوا اسکا نا کوئی پھچان
لاکھ ھسیں مگر کسی کی خوشی کے لیے وہ قربان
مگر دو چیزیں ہمیشہ انکو میں جلال اور بہ انتھا روشنی پیدا کرتی تھیں
وہ دو جان اور خدا کا نام