دروازے تمھارے پے



دروازے تمھارے پے دستک دیتا ھوں میں

انتیزار کی ھد سی گزر چکا ھوں میں

ایک اومید اور ارمان کے خواب میں کھویا ھوا ھوں میں 

آنے والے کل کے لیے دوا مانگتا حوں میں

حر سویر اور شام خدا سے لرتا حوں میں

کوئ دن ایسا نا حو جس میں حم تمھارا نام نا لیں

جتنا بھی گم حو میرے نسیب میں 

دو پل ملئں کھئں سے ایک حسین چھیرے کے سامنے 

گم ایک بوند کی تراہ سمندر میں کھو جاۓ

اور ھم اپنا دل اسھی لمھے میں کوہ نے کے انتازار میں حیں