
حر حلکی سی اواز میں
حر بادل کے گھرجنے میں
حر بارش کی بوندھ میں
حر حوا کے جھونکے میں
حر توفان کی آندھی میں
حر ساون کے لمحوں میں
چاند کی شواعیں جو زمین کو چھوھیں اور اندیھرے کو اوجالا دیں
حر سویر کی شبنم اور رات کی چمبیلی بھری حوا کی ادھوری میٹھی مھک میں
کچھ جانا ھے حمنے
کاش کھے سکتا میں مگر ان مامولی چیزوں میں جان دے چکا حوں میں
کچھ نا راحا میرا
بس ایک سیلاب ھوں میں